اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوگئے اور موجودہ قرض پروگرام کے تحت اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ہے،
جس کے بعد پاکستان کے لیے مجموعی طور پر 1.21 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو موجودہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر جاری کیے جاسکیں گے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ ای ایف ایف پروگرام کے پانچویں قسط کے لیے چوتھے جائزے جبکہ آر ایس ایف پروگرام کے تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات مکمل ہونے کا اعلامیہ جاری کردیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے معاشی اہداف کے حصول کے لیے بہترین کوششیں کیں، جبکہ آئی ایم ایف پروگرام کے نتیجے میں ملک میں معاشی استحکام آیا اور اصلاحات کا عمل تیز ہوا۔
آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے تین سہ ماہیوں، یعنی جولائی تا مارچ 2026، کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح تقریباً 4 فیصد رہی،
تاہم مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث معاشی سرگرمی متاثر ہوئی اور مجموعی شرح نمو 3.6 فیصد تک رہی۔
مئی 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی شرح بھی بلند سطح پر پہنچ گئی۔
دوسری جانب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں بہتری کے باعث ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی۔
اعلامیے میں پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اصلاحات جاری رکھنے، واجبات کی وصولی بہتر بنانے اور پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے گیس سیکٹر میں وصولیوں کو بہتر بنانے اور نقصانات کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔آئی ایم ایف نے حکومت کی پٹرول سبسڈی اسکیم پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ
اسکیم کو مرحلہ وار ختم کیا جائے اور اسے مزید توسیع نہ دی جائے۔ اعلامیے کے مطابق پٹرول سبسڈی کو صرف مستحق افراد تک محدود رکھا جائے تاکہ مالی وسائل کا مؤثر اور ہدفی استعمال یقینی بنایا جاسکے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کم سرکاری اخراجات پر بھی آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کیا

