اسلام آباد (الفجرآن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی اور تقرری سے متعلق درخواست کو وفاقی آئینی عدالت نے سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔
کیس کی سماعت 15 اکتوبر کو چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم بینچ کرے گا۔
ایڈووکیٹ شیر افضل مروت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی تقرری کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے، جس پر عدالت نے درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سزا یافتہ شخص کسی عوامی عہدیدار کی نامزدگی کا اختیار نہیں رکھتا، لہٰذا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقرری کے قانونی جواز کا جائزہ لیا جائے۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری سے متعلق قانونی اور آئینی نکات کا جائزہ لے کر مناسب حکم جاری کیا جائے۔
وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے کیس سماعت کے لیے مقرر کیے جانے کے بعد 15 اکتوبر کی سماعت میں درخواست کے قابلِ سماعت ہونے اور دیگر قانونی نکات پر فریقین کے مؤقف سنے جانے کا امکان ہے۔
عدالت کی کارروائی کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ درخواست پر کیا پیش رفت ہوتی ہے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تقرری سے متعلق قانونی اعتراضات پر عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے۔

